نئی دہلی ،12 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) آسام میں ایناآر سی کو لے کر الیکشن کمیشن سے بڑا سوال پوچھا ہے۔سپریم کورٹ نے کمیشن سے پوچھا کہ ایسے لوگوں کا کیا ہوگا، جن کا نام جولائی میں شائع ہونے والی این آر سی میں نہیں ہے، لیکن ووٹر لسٹ میں درج ہے۔سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے یہ بھی پوچھا کہ 1 جنوری 2018 سے 1 جنوری 2019 کے درمیان ووٹر لسٹ میں کتنے نام شامل کیاگیا اور کتنے نام کم کئے گئے۔معاملے کی اگلی سماعت اب 27 مارچ کو ہوگی۔بتا دیں کہ اس سے پہلے 19 فروری کو معاملے کی سماعت کے دوران اس مسئلے کو لے کر آسام حکومت کو پھٹکار لگائی تھی۔چیف جسٹس نے کہا کہ آسام این آر سی سے 40 لاکھ لوگوں کو باہر کیا گیا ہے۔جبکہ حکومت نے صرف 52 ہزار لوگوں کو ہی غیر ملکی قرار دیا ہے۔وہیں آسام میں الیکشن کمیشن سے وابستہ ایک اہلکار نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں چل رہی این آر سی پر کارروائی کا ووٹ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔جن لوگوں کے نام ووٹر لسٹ میں ہیں، وہ ووٹ ڈال سکیں گے۔ریاست میں قانونی شہریوں کی رجسٹریشن کرنے کے کارجا ری ہے۔اس کے لئے غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت کا کام کرکے این آر سی اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔گزشتہ سال جولائی میں شائع این آر سی کے ڈرافٹ میں 3.29 کروڑ میں سے 40.07 لاکھ درخواست دہندگان کے نام شامل نہیں کئے گئے تھے، جس سے یہ تشویش بڑھ گئی کہ وہ اب اپنے ووٹ کے حق کا استعمال نہیں کر سکیں گے۔